ایک شاندار بولنگ کی نمائش میں، یارکشائر کے بین کلف نے 8-76 کی کیریئر بیسٹ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس نے اپنی ٹیم کو کاؤنٹی چیمپئن شپ میں سمرسیٹ کے خلاف حیران کن فتح دلائی۔ کلف نے میچ کا آغاز صرف سات وکٹوں کے ساتھ کیا تھا جو انہوں نے دس فرسٹ کلاس میچز میں حاصل کی تھیں، اور ایک ہی میچ میں اپنی تعداد دوگنا کر دی، ہیڈنگلے میں لیگ کے رہنماؤں کے خلاف اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
یارکشائر نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 212 رنز کا مجموعہ بنایا، جس میں کپتان جانny بیئر اسٹو نے 79 رنز کی مضبوط شراکت دی۔ تاہم، سمرسیٹ کے بولرز، لیوس گریگوری، میگیل پریٹوریس، اور جیک بال نے تین تین وکٹیں حاصل کیں، جس نے یارکشائر کے اسکورنگ کو مؤثر طریقے سے محدود کر دیا اور ایک مقابلہ جاتی مقابلے کے لیے میدان تیار کیا۔
سمرسیٹ کا جواب ابتدا سے ہی تباہ کن رہا، پہلے چھ اوورز میں دونوں اوپنرز کو کھو دیا۔ کلف اور ان کے ساتھی بولر بین کوڈ نے جلد ہی ایک ایک وکٹ حاصل کی، اور کلف نے تیزی سے آرچی وون اور ٹام ایبل کو متواتر گیندوں پر آؤٹ کر دیا، جس سے سمرسیٹ 24-4 پر مشکل میں آ گیا۔ پہلے دن کے آخر میں، سمرسیٹ 68-5 پر جدوجہد کر رہا تھا، جبکہ کلف کی شاندار بولنگ نے ان کی بیٹنگ لائن اپ میں افراتفری مچائی۔
دوسرے دن، کلف نے اپنی متاثر کن فارم کو جاری رکھا، دو مزید وکٹیں جلدی حاصل کیں، جن میں جیمز ریو اور لیوس گریگوری شامل تھے، جس سے سمرسیٹ 86-8 کی نازک حالت میں آ گیا۔ دباؤ کے باوجود، کریگ اوورٹن اور پریٹوریس نے ایک مضبوط شراکت قائم کی، نویں وکٹ کے لیے 90 رنز جوڑے۔ دونوں کھلاڑیوں نے نصف سنچریاں بنائیں، جس نے سمرسیٹ کو 200 رنز کے ہندسے سے آگے بڑھنے میں مدد دی اور یارکشائر کی پہلی اننگز کے مجموعے کے قریب پہنچا دیا۔
آخرکار، کلف کی آٹھ وکٹوں کی کارکردگی فیصلہ کن ثابت ہوئی جب انہوں نے سمرسیٹ کی اننگز کو ختم کیا، یہ یقینی بناتے ہوئے کہ وہ 201 رنز پر ختم ہوئے، جو یارکشائر کے مجموعے سے صرف نو رنز کم تھے۔ یہ کارکردگی نہ صرف کلف کی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یارکشائر کی فتح میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے جو چیمپئن شپ ٹائٹل کے لیے لڑ رہی ہے۔
سمرسیٹ اس میچ میں ڈویژن ون ٹیبل کے اوپر تھا، 12 میچز میں 189 پوائنٹس کے ساتھ، جس کے قریب ناتنگھم شائر اور وارکشائر ہیں۔ یہ شکست ان کی ٹائٹل کی امیدوں کے لیے اہم مضمرات رکھ سکتی ہے کیونکہ وہ چیمپئن شپ کے آخری مراحل میں داخل ہو رہے ہیں۔ جیسے جیسے مقابلہ بڑھتا ہے، ہر میچ ان ٹیموں کے لیے اہم ہو جاتا ہے جو قیمتی ٹائٹل کے لیے کوشاں ہیں۔
تبصرہ کریں