Search

Advertisement

بین شیلٹن نے یو ایس اوپن کے کوارٹر فائنل میں کارلوس الکاراز کو شکست دی

Advertisement

یو ایس اوپن میں ایک شاندار اپ سیٹ میں، بین شیلٹن نے دفاعی چیمپئن کارلوس الکاراز کو ایک ایسے میچ میں شکست دی جسے اس کے ڈرامائی اختتام اور رات کے وقت کی شدت کے لیے یاد رکھا جائے گا۔ یہ کوارٹر فائنل کا مقابلہ بدھ کی صبح 3:33 بجے ختم ہوا، جس میں شیلٹن نے 6-7 (5)، 6-1، 6-3، 1-6، 7-6 (10-7) کی فتح حاصل کی، جو اس کے نوجوان کیریئر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

الکاراز، جو موجودہ چیمپئن اور عالمی نمبر 1 ہیں، نے میچ میں اعلیٰ توقعات کے ساتھ شرکت کی، اپنے عنوان کا دفاع کرنے اور ٹورنامنٹ میں اپنی شاندار کارکردگی کو جاری رکھنے کا ارادہ کیا۔ تاہم، شیلٹن، جو امریکی ٹینس میں ابھرتا ہوا ستارہ ہے، نے اپنی مضبوطی اور مہارت کا مظاہرہ کیا، ایک ایسے میچ میں جو متعدد موڑوں کا حامل تھا۔ یہ مقابلہ نہ صرف جسمانی طاقت کا امتحان تھا بلکہ ذہنی قوت کا بھی، دونوں کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کو اپنی حدوں تک پہنچایا۔

میچ کا آغاز ایک سخت مقابلے کے پہلے سیٹ سے ہوا، جہاں الکاراز نے شیلٹن کو ٹائی بریک میں شکست دے کر برتری حاصل کی۔ تاہم، شیلٹن نے جلد ہی خود کو سنبھالا، دوسرے سیٹ میں جارحانہ کھیل اور طاقتور سروسز کے ساتھ غالب آ گیا جس نے الکاراز کو جواب دینے میں مشکل میں ڈال دیا۔ نوجوان امریکی کا اعتماد بڑھتا گیا جب اس نے اگلا سیٹ جیتا، جس نے اسے ایک خوشگوار پوزیشن میں رکھ دیا۔

چوتھے سیٹ میں الکاراز کی جانب سے ایک جوشیلے واپسی کے باوجود، جسے اس نے جیت کر میچ برابر کیا، شیلٹن بے خوف رہا۔ آخری سیٹ ایک سنسنی خیز مقابلہ تھا، جہاں دونوں کھلاڑیوں نے ایک تناؤ بھرے ٹائی بریک میں پوائنٹس کا تبادلہ کیا۔ آخر کار شیلٹن نے کامیابی حاصل کی، ٹائی بریک میں فیصلہ کن 10-7 کی فتح کے ساتھ میچ کو ختم کیا۔ یہ فتح نہ صرف الکاراز کے عنوان کے دفاع کا خاتمہ کرتی ہے بلکہ شیلٹن کو سیمی فائنلز میں لے جاتی ہے، جہاں وہ ایک اور امریکی کھلاڑی کا سامنا کرے گا، جو ایک دلچسپ تمام امریکی مقابلے کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے۔

یہ میچ نہ صرف شیلٹن کے کیریئر کے لیے اہم ہے بلکہ امریکی ٹینس کے لیے بھی، کیونکہ یہ نئے ٹیلنٹ کے ابھرنے کو اجاگر کرتا ہے جو اعلیٰ سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جیسے جیسے یو ایس اوپن اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، شیلٹن کی کارکردگی بلا شبہ ایک گفتگو کا موضوع بنے گی کیونکہ وہ کھیل میں اپنا نشان چھوڑتا رہے گا۔

ماخذ: ESPN Tennis

Advertisement

تبصرے (0)

Be the first to write a comment.

تبصرہ کریں

WhatsApp Facebook X Copy Link
Advertisement