Search

Advertisement

یو ایس اوپن کے سیمی فائنلسٹ بین شیلٹن اور الیگزینڈر زویریو رات کے چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں

Advertisement

نیویارک کا ہنگامہ خیز ماحول، جسے اکثر وہ شہر کہا جاتا ہے جو کبھی نہیں سوتا، یو ایس اوپن میں مقابلہ کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے منفرد چیلنجز پیش کرتا ہے۔ جیسے جیسے ٹورنامنٹ اپنے عروج کی طرف بڑھتا ہے، میچز کے دیر رات ختم ہونے نے کھلاڑیوں پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے، خاص طور پر مردوں کے سیمی فائنلسٹ بین شیلٹن اور الیگزینڈر زویریو پر۔

بین شیلٹن، نوجوان امریکی حسینہ، نے ٹورنامنٹ کے دوران اپنی شاندار کارکردگی کے ساتھ ٹینس کے شائقین کی توجہ حاصل کی ہے۔ تاہم، گھر کے سامنے کھیلنے کا جوش اپنی مشکلات کے ساتھ آتا ہے۔ ایک سنسنی خیز کوارٹر فائنل میچ کے بعد جو صبح کے ابتدائی اوقات میں ختم ہوا، شیلٹن نے اپنی اگلی ملاقات کی تیاری کرتے ہوئے تھکاوٹ کا سامنا کیا۔ دیر رات کے میچز نے انہیں اپنی روٹین میں تبدیلی کرنے پر مجبور کیا، بشمول صبح 6:45 بجے تک بستر جانے کا فیصلہ، جو زیادہ تر کھلاڑیوں کے منظم شیڈول کے مقابلے میں ایک واضح تضاد ہے۔

نیٹ کے دوسری جانب، جرمنی کے الیگزینڈر زویریو ہائی اسٹیک میچز کے دباؤ سے ناواقف نہیں ہیں۔ بڑے ٹورنامنٹس کے فائنلز تک پہنچنے کے تجربے کے ساتھ، زویریو بحالی اور آرام کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ تاہم، دیر رات کا شیڈول بھی ان پر اثر انداز ہوا ہے، جس کی وجہ سے آرام اور تیاری کے درمیان توازن تلاش کرنے میں دشواری ہوئی ہے۔ زویریو کا ایسے حالات سے نمٹنے کا تجربہ یو ایس اوپن کے آخری مراحل میں ان کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

یو ایس اوپن، جو اپنی شاندار فضاء اور شدید مقابلے کے لیے جانا جاتا ہے، اکثر میچز کو صبح کے ابتدائی اوقات تک بڑھتا ہوا دیکھتا ہے، خاص طور پر آخری راؤنڈز کے دوران۔ اس سال، کھلاڑیوں کو نہ صرف میچز کی جسمانی ضروریات کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ غیر روایتی نیند کے معمولات کے ذہنی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ جیسے جیسے وہ ٹورنامنٹ میں آگے بڑھتے ہیں، شیلٹن اور زویریو دونوں کو اپنی توانائی کی سطح کو منظم کرنے کے طریقے تلاش کرنے ہوں گے جبکہ بہترین کارکردگی کو برقرار رکھنا ہوگا۔

جیسے جیسے سیمی فائنلز قریب آتے ہیں، توجہ اس بات پر ہوگی کہ یہ کھلاڑی دیر رات کے ختم ہونے والے میچز کے ساتھ کس طرح نمٹتے ہیں۔ جلدی بحالی اور شیڈول کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت ان کے کورٹ پر کامیابی کا تعین کر سکتی ہے۔ جب کہ داؤ پہلے سے زیادہ بلند ہیں، دونوں کھلاڑی جانتے ہیں کہ ہر لمحہ اہم ہے، اور ان کی تیاری کا طریقہ چیمپئن شپ کے حصول میں اہم ہوگا۔

آخر میں، جیسے جیسے یو ایس اوپن جاری ہے، دیر رات کے میچز ان منفرد چیلنجز کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں جو ایلیٹ کھلاڑیوں کو ایک ایسے شہر میں درپیش ہیں جو جوش و خروش اور توانائی میں پروان چڑھتا ہے۔ بین شیلٹن اور الیگزینڈر زویریو کے لیے، فائنل کی طرف سفر نہ صرف ان کی مہارت کا امتحان لے گا بلکہ ان کی محنتی شیڈولز کے اثرات پر قابو پانے کی قوت برداشت کا بھی۔

ماخذ: BBC Sport

Advertisement

تبصرے (0)

Be the first to write a comment.

تبصرہ کریں

WhatsApp Facebook X Copy Link
Advertisement